1 thought on “Sham e Shair Yaran / شامِ شعر یاراں

  1. مشتاق احمد یوسفی کی اس کتاب میں ان کا روایتی انداز ماند نظر آتا ہے۔ مزاح میں کچھ کسر سی رہ گئی ہے، یا پھر شاید ہم نے امیدیں کچھ زیادہ وابستہ کر لی تھیں۔پہلی کتابوں کی ہر سطر پر قہقہہ پھوٹتا تھا، یہاں کئی کئی صفحے پلٹ جاتے ہیں اور زیر لب تبسم بھی نہیں آتا۔ایک دوست نے کہا یوسفی صاح [...]

  2. میرا یہ ماننا ہے کہ یوسفی صاحب اردو کے سب سے بڑے مزاح نگار ہیں،اگرچہ ان کے مزاح میں بے ساختہ پن کی کمی ہے جو ابن انشاء، یا پطرس کے ہاں نظر آتی ہے لیکن یوسفی صاحب کے مزاح کی گہرائی ،الفاظ کا چناؤ اور میروغالب کے اشعار کا تڑکا کہیں اور نظر نہیں آتا۔میں نے یوسفی صاحب کی باقی تمام کتب [...]

  3. بہت سے لوگ یوسفی کو محض ایک مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا کام بات بے بات قاری کی گدگدی کرتے رہنا ہے۔ درحقیقت یوسفی کا مزاح، ہمارے اکثر سیاسی، سماجی و معاشی رویوں کا نوحہ ہے۔ یوسفی کی یہ آخری کتاب اُس نوحے کا آخری حصہ ہے جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے ایک مزاح پارے کے طور پہ لیا ج [...]

  4. In places it is hilariously funny (as one would expect from Yusufi). But the book is a collection of speeches Yusufi has delivered over the years, a large part of the book therefore talks about how great person X or Y is, depending on where and, in whose honor, the speech is being delivered. This work doesn't hold a candle to Yusufi's earlier works (in particular Zarguzasht).

  5. یہ کتاب در اصل یوسفی صاحب کے مختلف اوقات میں لکھے اور مختلف تقریبات میں پڑھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کو کراچی آرٹس کاؤنسل کی عالمی اردو کونفرنس 2014 کے لیے نہایت جلد بازی میں یوسفی صاحب کے گھر سے ادھر ادھر کے مضامین ڈھونڈ کر شایع کیا گیا۔ جس میں ترتیب اور وحدت کا سرے سے [...]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *